Popular Posts

Saturday, May 19, 2012

عظمت

انسانی تاریخ میں عظمت کے دعوے بہت انسانوں نے کیے ہیں مگر حقیقی عظمت کم لوگوں کو میسر آئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عظمت کا دھوکا عام ہے مگر عظمت کا تجربہ نایاب ہے۔ عظمت کے دھوکے کے عام ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسان لمحہ ¿ موجود کا اسیر ہوکر دیکھنے اور سوچنے کا عادی ہے۔ ایسا کرتے ہوئے وہ حال کو ماضی اور مستقبل سے کاٹ لیتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ ماضی میں لوگ کسی مخصوص شعبہ ¿ حیات میں کیسے کیسے کارنامے انجام دے چکے ہیں۔ وہ اس حقیقت کو فراموش کردیتا ہے کہ مستقبل میں سفر کرنے کے لیے کتنی غیر معمولی اہلیت درکار ہے۔ سلیم احمد نے کہا ہے
کتنے لکھنے والے اس حسرت میں مٹی ہوگئے
صفحہ آبِ رواں پر نقش ہو تحریر کا
صفحہ آبِ رواں وقت کا دریا ہے اور وقت کے دریا کو فتح کرنا آسان نہیں۔ اقبال نے کہا ہے
اوّل و آخر فنا باطن و ظاہر فنا
نقشِ کہن ہو کہ نو منزل آخر فنا
 فنا کا یہ تصور اتنا دل دہلا دینے والا ہے کہ اس کے سامنے عظمت کی بات ہی فضول محسوس ہوتی ہے۔ بلاشبہ فنا زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے، لیکن دیکھا جائے تو انسان کی عظمت کا انحصار اس بات پر ہے کہ انسان فنا ہونے سے پہلے کس طرح جیا اور جینے کے بعد کس طرح مرا۔ یہ بات اس لیے اہم ہے کہ تاریخ کے سفر میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ بہت سے لوگوں کو جینا آتا ہے مگر مرنا نہیں آتا، اور کچھ لوگ مرنے کا سلیقہ سیکھ لیتے ہیں لیکن انہیں جینے کا شعور نہیں ہوتا۔ انسان کی عظمت اس میں ہے کہ اسے جینا بھی آتا ہو اور مرنا بھی آتا ہو۔
اسلام کے دائرے میں انسان کی عظمت بے پناہ ہے۔ اسلام اسے اشرف المخلوقات کہتا ہے۔ اس کے سر پر خلیفتہ الارض کا تاج رکھتا ہے۔ اس کی جان کی حرمت کو خانہ کعبہ سے زیادہ اہم قرار دیتا ہے۔ لیکن اسلام میں انسان کی یہ عظمت مشروط ہے۔ اسلام میں انسان کی عظمت اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے قرب سے ہے۔ انسان اللہ تعالیٰ کا جتنا مطیع اور فرماں بردار ہے اور اس کے جتنا زیادہ قریب ہے اتنا ہی وہ حقیقی، زندہ اور عظیم ہے۔ اور انسان اللہ تعالیٰ کا جتنا نافرمان اور اس سے جتنا زیادہ دور ہے اتنا ہی جعلی، مُردہ اور حقیر ہے۔ اس تعریف کی رو سے دیکھا جائے تو حقیقی عظمت صرف انبیا و مرسلین اور ان کے وارثوں کو حاصل ہے۔ لیکن انبیا و مرسلین کی تعداد ایک لاکھ 24 ہزار ہے اور ان میں اولوالعزم پیغمبر صرف پانچ ہیں۔ یعنی حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیم ؑ، حضرت موسیٰ ؑ، حضرت عیسیٰ ؑ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم۔ البتہ سردار الانبیا اور خاتم النبیین صرف ایک ہیں، یعنی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انبیا کی تاریخ کے کمال کا کمال اور انبیا کی تاریخ کے جمال کا جمال ہیں، اور اس سے زیادہ عظمت کا تصور ممکن ہی نہیں۔ اس عظمت کا عالم یہ ہے کہ جس نے اس عظمت کو دیکھا وہ خود بھی عظیم ہوگیا۔ مثلاً صحابہ کرامؓ۔ یہاں تک کہ صحابہ کرامؓ کو دیکھنے اور ان سے فیض اٹھانے والے تابعین بھی ہماری تاریخ میں غیر معمولی عظمت کے حامل ہیں۔ لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کسی خاص زمانے تک محدود نہیں۔ قیامت تک جو شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی کتاب اور آپ کی سیرت ِطیبہ سے قریب ہوگا وہ عظیم بن جائے گا۔
عظمت کا بہت گہرا تعلق خیال اور اس کے سرچشمے سے بھی ہے۔ چنانچہ انسانی تاریخ میں وحی کی اہمیت مرکزی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وحی سے بڑے خیال اور اس کے سرچشمے سے بڑے سرچشمے کا تصور محال ہے۔ اس روئے زمین پر اگر انسان کا قیام ایک کروڑ سال ہوگا تو وحی اس پورے زمانے کا احاطہ کیے کھڑی ہے۔ وحی کے موضوعات دائمی اور اس کے خیال کی سطح کی بلندی بے مثال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں الہامی کتب اور انبیا و مرسلین کے اقوال کی تشریح کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ اس چیز کا اثر فلسفے کی روایت پر بھی پڑا ہے۔ سقراط اور افلاطون کے زمانے میں فلسفہ دانش یا وحی کے پیدا کردہ علوم کی محبت تھا، اور اس کے موضوعات عظیم الشان تھے۔ مثلاً یہ کہ وجود کیا ہے؟ کائنات کیا ہے؟ صداقت کسے کہتے ہیں؟ حسن کے معنی کیا ہیں؟ انسان کہاں سے آیا ہے؟ اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ کلاسیکل فلسفے کی اس بلند خیالی نے اسے تقریباً ڈھائی ہزار سال تک زندہ رکھا۔ جدید فلسفے نے خدا اور مذہب کے خلاف بغاوت پر اپنی اساس رکھی اور اس کے موضوعات بدل کر رہ گئے۔ مابعد الطبیعات کی جگہ طبیعات نے لے لی۔ وجود کا مطلب وجودِ باری تعالیٰ کے بجائے انسانی وجود ہوگیا۔ موضوعات کی پستی نے فلسفے سے اس کی بلند خیالی چھین لی، اور فلسفے کی دنیا میں خیالات کا فیشن لباس کے فیشن کی طرح تیزی کے ساتھ بدلنے لگا، چنانچہ چونکہ کبھی دو ہزار سال کا بوجھ اٹھا سکتی تھی اس کے لیے چند دہائیوں کا بوجھ اٹھانا بھی دشوار ہوگیا۔ یہ فرق خیال کی بلندی اور اس کے سرچشمے کی تبدیلی کا فرق ہے۔ کلاسیکل فلسفے کے موضوعات اپنی نہاد میں مابعد الطبیعاتی تھے، اور جدید فلسفے کے موضوعات طبیعاتی ہیں۔ کلاسیکل فلسفے کا سرچشمہ الہام تھا، اور جدید فلسفے کا سرچشمہ عقلِ انسانی ہے۔ چنانچہ ان کی عظمت کا فرق سمندر اور چائے کے کپ کی عظمت کا فرق ہے۔ کلاسیکل فلسفے کے طوفان سمندر کے طوفان ہیں، اور جدید فلسفے کے طوفان چائے کے کپ میں اٹھنے والے طوفان ہیں۔ کلاسیکل فلسفہ چونکہ زندگی کو اس کی گہرائی میں دیکھتا تھا اس لیے کلاسیکل فلسفے کے ہر بڑے فلسفی کے یہاں ہمیں نظریہ سازی یا Theorization کا عمل ملتا ہے، اور ہر بڑے فلسفی نے نظام سازی یا System Building کی اہلیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ کلاسیکل فلسفے میں اس عمل کی سب سے بڑی علامت افلاطون ہے۔ جدید فلسفے میں یہ کام ہیگل نے کیا ہے۔ کارل مارکس، ہیگل سے متاثر تھا اور اس نے بھی نظریہ سازی اور نظام سازی کی اہلیت کا مظاہرہ کیا۔ لیکن مارکس کی نظریہ سازی اور نظام بندی اپنی نہاد میں یک جہت یا Single Dimensional ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ مارکس اپنی اصل میں فلسفی نہیں بلکہ ایک ماہر معاشیات یا عالمی سطح کا سیاسی کارکن یا Political Activist تھا۔
انسان اور خیال کی عظمت کی ایک بڑی کسوٹی وقت ہے۔ وقت ہر شے کا سب سے بڑا نقاد ہے اور اس کا کھوٹا کھرا ثابت کردیتا ہے۔ سقراط اور افلاطون کا زمانہ 300 قبل مسیح کا زمانہ ہے، اور ان کے خیالات کی بنیاد پر دنیا میں نہ کبھی کوئی انقلاب برپا ہوا نہ ریاست قائم ہوئی، لیکن اس کے باوجود سقراط اور افلاطون کو آج بھی اسی طرح پڑھا جاسکتا ہے جس طرح آج سے سوا دو ہزار سال پہلے پڑھا جاسکتا تھا۔ اس کے برعکس کارل مارکس کے نظریات کی بنیاد پر انقلاب بھی برپا ہوا اور ریاست بھی قائم ہوئی، یہاں تک کہ نصف دنیا عملاً اس کے خیالات کو بسر کرنے والی دنیا بن گئی، لیکن کارل مارکس صرف سو سال میں ”پرانا“ بھی ہوگیا اور دنیا نے اس کے نظریے کو مسترد بھی کردیا۔ چنانچہ اب مارکس کے نظریات کو تاریخ کی ”یادگار“ کے طور پر پڑھا جاسکتا ہے۔ اس کے سوا اب مارکس کے نظریات کی کوئی اہمیت نہیں۔
عظمت کے سلسلے میں وقت کی کسوٹی کی ایک کیا کئی اچھی مثالیں اردو ادب میں موجود ہیں۔ مثلاً میر، غالب اور اقبال کو ہم عظیم کہتے ہیں اور ان کی عظمت کا ایک پہلو یہ ہے کہ میر کم و بیش ڈھائی سو سال سے ادبی ذوق کی آبیاری کررہے ہیں اور انہیں آج تک کوئی پرانا کہنے کی جرا ¿ت نہیں کرسکا ہے۔ غالب ڈیڑھ سو سال سے مسلسل پڑھے اور سمجھے جارہے ہیں اور غالب کی تنقید ابھی تک غالب کی شاعری کے امکانات کو ختم یا Exhaust نہیں کرسکی ہے۔ اقبال ایک صدی سے ہر نسل کے پسندیدہ شاعر ہیں اور ان کی شاعری کی تاثیر کو ابھی تک پوری طرح دریافت نہیں کیا جاسکا ہے۔ وقت عظمت کے پیمانوں کو کس طرح بدل ڈالتا ہے اس کی سب سے بڑی مثال ذوق، مومن اور غالب کی درجہ بندی میں آنے والا فرق ہے۔ غالب کے زمانے میں شاعرانہ عظمت کے اعتبار سے ان تینوں شاعروں کی ترتیب یہ تھی: ذوق، مومن اور غالب۔ مگر آج ان تینوں کی درجہ بندی یہ ہے: غالب، مومن، ذوق۔ اردو ادب میں مصنوعی عظمت کی ایک مثال جوش ملیح آبادی ہیں۔ آج سے پچاس سال پہلے جوش شاعرِ انقلاب تھے، شاعرِ شباب تھے، شاعراعظم تھے۔ برصغیر میں ان کے بغیر کسی مشاعرے اور کسی ادبی رسالے کا تصور نہیں کیا جاسکتا تھا، مگر آج ذوق اور جگر کیا ناصر کاظمی تک جوش سے زیادہ اہم ہیں۔ جوش کی شاعری نہ بعد میں آنے والے کسی قابل ذکر شاعر پر اثرانداز ہوسکی، نہ ان کی شاعری آج کے اجتماعی حافظے کا حصہ ہے۔ اس کے برعکس جوش کی شہرت کے زمانے میں اُن سے کم اہم سمجھے جانے والے فراق اور جگر مراد آبادی کے درجنوں اشعار برصغیر کے لاکھوں لوگوں کو یاد ہوں گے۔ مولانا مودودیؒ برصغیر کے علمی افق پر طلوع ہوئے تو علماءکی عظیم اکثریت نے ان کے سلسلے میں دو رویّے اختیار کیے۔ ایک یہ کہ علماءکی اکثریت نے انہیں ”گمراہ“ کہہ کر مسترد کردیا۔ کچھ علماءنے مولانا کو مسترد تو نہیں کیا، لیکن ان کے سلسلے میں متعصبانہ رویہ اختیار کرلیا۔ مثلاً یہ کہ مولانا اسلام کے بارے میں کچھ باتیں تو ٹھیک طرح جانتے ہیں لیکن انہیں کچھ چیزوں کا صحیح علم نہیں ہے۔ مثلاً: بھلا انہیں کیا معلوم کہ فہم کیا چیز ہے؟ علماءکے اس رویّے کو دیکھ کر کسی کو بھی یہ خیال ہوسکتا تھا کہ مولانا مودودیؒ کی علمی اور فکری عمر زیادہ نہیں ہے۔ مولانا دس بیس سال میں انتقال کرجائیں گے۔ لیکن جو کچھ ہوا ہے وہ ہمارے سامنے ہے۔ مولانا 70 سال سے اب تک زندہ ہیں اور مسلم دنیا کی فکری تشکیلِ نو میں ان کا حصہ کسی بھی دوسری شخصیت سے زیادہ ہے۔ البتہ جو لوگ مولانا کو مسترد کرتے تھے ان کو وقت نے خود مسترد کردیا، اور جو لوگ مولانا کے فہم پر سوال اٹھاتے تھے وقت نے خود ان کے فہم کے آگے سوالیہ نشان لگادیے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عظمت ایجاد کرنے سے ایجاد نہیں ہوتی، وقت خود بتا دیتا ہے کہ عظمت کس کا حصہ ہے اور کس کا حصہ نہیں ہے۔ لیکن کسی کہنے والے نے کہا ہے کہ وقت ایک مہنگا استاد ہے۔ بلاشبہ ایسا ہی ہے۔ کبھی کبھی وقت انسان سے اس کی پوری زندگی مانگ لیتا ہے اور انسان خالی ہاتھ کھڑا رہ جاتا ہے۔

Monday, August 15, 2011

دنیا اور آخرت

اسلامی تعلیمات ہمیں بتاتی ہیںکہ جب انسان اللہ تعالیٰ کے حضور حاضرہوگا تو اللہ تعالیٰ انسان سے پوچھے گا کہ تم کتنی دیردنیا میں رہے؟ اس کے جواب میں انسان کہے گا کہ ایک دن یا اس سے کچھ زیادہ۔
انسان دنیا میں ساٹھ‘ ستر سال اور بسا اوقات سوسال یا اس سے زیادہ گزارکررخصت ہوتاہے۔ لیکن دوسری دنیا میں انسان کے 100 سال کا شعور ایک دن کے شعور کے برابر ہوجائے گا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہوگی کہ انسان کا شعور دنیا کے شعور سے دور اور آخرت کے شعور کے قریب ہوجائے گا اور آخرت کی زندگی کے مقابلے پر دنیا کی زندگی ایک دن یا اس سے بھی کم ہے۔ اسلامی تہذیب میں دنیا اور آخرت کے تعلق کی ایک صورت یہ ہے۔
اس صورت کی مزید وضاحت ایک حدیث شریف میں موجود ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن صحابہ کرام ؓ کو بتایاکہ دنیا انسان کے ہاتھ کی سب سے چھوٹی انگلی پر ٹھہرجانے والے پانی کی طرح ہے اور آخرت کی زندگی اس کے مقابلے پر ایک سمندرکی طرح ہے۔
اسلام میں دنیا اورآخرت کے تعلق کی ایک صورت یہ ہے کہ رسول اکرم ایک روز صحابہ کرام کے ساتھ کہیں تشریف لے جارہے تھے کہ آپ کو راستے میں بکری کا ایک مرا ہوا بچہ ملا۔ حضوراکرم ﷺ نے صحابہ سے پوچھا کہ تم میں سے کون اسے خریدنا پسند کرے گا؟ صحابہ نے کہاکہ ہم تو اسے مفت بھی لینا پسند نہ کریں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دنیا بکری کے اس مرے ہوئے بچے سے زیادہ حقیر ہے۔ اس کے مقابلے پر ایک حدیث شریف کا مفہوم یہ ہے کہ جنت کی حورکا دوپٹہ بھی دنیا ومافیہا سے بہترہے۔
یہ دنیا اور آخرت کے تعلق کی حقیقی نوعیت ہے اور ہماری زندگی اور اس کی ترجیحات کو دنیا اور آخرت کے اس تعلق کے مطابق ہونا چاہیے لیکن امر واقع یہ ہے کہ ہماری بیشتر تمنائیں‘ آرزوئیں اورخواہشیں دنیا سے متعلق ہیں۔ ہمارے اکثر خواب دنیا کے رنگوں سے اپنا تانا بانا بنتے ہیں۔ ہماری زندگی کی بہترین صلاحیتیں آخرت کے بجائے دنیا کے لیے وقف ہوتی ہیں۔ ہمارے علم اور معاملات کا غالب حصہ دنیا سے تعلق رکھتاہے۔ ہمارے وقت کا بہترین حصہ آخرت کے بجائے دنیا کے لیے وقف ہے۔ ہماری سرگرمیوں میں سے اکثر کا حوالہ دنیاہے۔ ہماری توانائی کا بیشتر حصہ آخرت کے بجائے دنیا پر صرف ہوتاہے۔ ہمارے حصے میں آنے والی تعریف کا بڑا حصہ دنیا سے متعلق ہے۔ ہماری اکثر خوشیاں اور مسرتیں دنیا سے برآمدہوتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری زندگی اور اس کی ترجیحات دنیا اورآخرت کے تعلق کی نوعیت کی ضد ہیں۔ ہم عملاً ایک دن کو ایک کھرب سال پر ترجیح دینے والے بنے ہوئے ہیں۔ ہم نے پانی کے ایک قطرے کو سمندر پر فوقیت دے رکھی ہے۔ ہم نے بکری کے مردہ بچے کو اپنی زندگی کا دستور بناکر اسے آخرت کی تمام نعمتوں پر غالب کرلیاہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے باوجود بھی ہمارا خیال ہے کہ ہم ذہین ہیں۔ ہم صاحب علم ہیں۔ ہم صاحب شعور ہیں۔ ہم انسانی ترقی کی معراج پر پہنچی ہوئی انسانیت کا حصہ ہیں۔ ہم 21 ویں صدی کی فضا میں سانس لینے والی انسانی برادری میں شامل ہیں۔ یہ دعوے اتنے مضحکہ خیز ہیں کہ انسان ان پر ہنسنا چاہے تو اسے ان پر ہنسی کے بجائے رونا آجائے۔
 یہاں سوال یہ ہے کہ آخرت پر دنیا کے غلبے کے ظاہرکی تفصیل کیاہے۔؟
اس سلسلے میں دومظاہرکا مطالعہ پوری زندگی کے بیان کے لیے کافی ہے۔ سب سے اہم مظہر ہماری زندگی میں مذہب کی اہمیت ہے۔ مذہب اور دنیا کا تعلق یہ ہے کہ دنیا مذہب کا حصہ ہے مذہب دنیا کا حصہ نہیں ہے مگر ہماری زندگی میں مذہب دنیا کا حصہ بن گیاہے۔ اس کا اثر عبادت کے تصور پر یہ پڑا ہے کہ اول تو مسلم معاشرے کی اکثریت نماز ہی نہیں پڑھتی اور جولوگ نماز پڑھتے ہیں ان میں سے اکثر کے یہاں عبادت کا شعور اور اس کی روح مفقود ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ عبادت ہماری زندگی پراثر انداز ہونے والی حقیقت نہیں رہی۔
مذہب اوردنیاکے بگڑے ہوئے تعلق کا اثر ہمارے علم پر بہت گہرا پڑا ہے۔ اس اثرکی ایک صورت یہ ہے کہ علم کی ضرورت کا شعور باقی نہیں رہا اور دین ودنیا کے علوم الگ ہوگئے۔ اس پر طرہ یہ کہ ہماری علمی کائنات پر دنیا کے علوم کا غلبہ ہوگیا اور دین کا علم اس کائنات کا ایک ذرہ بن کر رہ گیا۔ ہم اپنے بچوںکو پہلی جماعت سے ایم اے تک ہرکلاس میں اگر سات مضامین پڑھاتے ہیں تو اسلامیات ان میں سے محض ایک مضمون ہوتی ہے۔ علم کی دنیا میں مذہب اور دنیا کا یہ عدم توازن ہمارے بچوں کا شعور حیات خلق کرتاہے۔ خدا‘ اسلامی قدر اور آخرت سے اس کے تعلق کی نوعیت متعین کرتاہے۔ ہماری زندگی میں مذہب کی ایک اہمیت یہ ہے کہ ہمارے ذہین ترین نوجوان ڈاکٹر بنتے ہیں۔ انجینئر بنتے ہیں۔ ایم بی اے کرتے ہیں۔ اطلاعاتی ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرتے ہیں اورکم ذہین بچوں اور نوجوانوں کو ہم مدارس کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔ حالانکہ ہماری تاریخ کے تمام بہترین ادوارمیں ذہین ترین لوگ مذہب اور اس کے علم کے لیے خود کو وقف کرلیتے تھے۔ اس صورتحال کو دیکھاجائے تو معلوم ہوجاتاہے کہ مذہب اور دنیا کے مابین ہماری ترجیح کیاہے؟
آخرت پر دنیا کے غلبے کا دوسرا بڑا مظہر یہ ہے کہ ہم صرف دنیا کی تعلیم کو دین کی تعلیم پرفوقیت دے کر نہیں رہ جاتے بلکہ دینا کی تعلیم کو صرف معاش کے لیے وقف کردیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتاہے کہ ہماری زندگی معاش کی نذرہوجاتی ہے۔ ہماری عمر کا بہترین عرصہ 25 سے 60 سال کے درمیان ہے اور یہ پورا کا پورا عرصہ معاشی جدوجہد میں صرف ہوجاتاہے۔ ہمارے دن کا بہترین وقت صبح سے شام تک کا وقت ہے اور یہ وقت ہم معاش کے کولہو کا بیل بن کر گزاردیتے ہیں۔ بلاشبہ اسلام معاش کمانے سے منع نہیں کرتا بلکہ اپنے متعلقین کے لیے رزق حلال کمانا ایک مذہبی تقاضا ہے لیکن معاش کو زندگی کا ایک جزو سمجھنے اور اسے زندگی کا کل بنانے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخرت پر دنیا کی فوقیت کے اس منظرنامے کے اسباب کیاہیں ؟۔
قرآن مجید فرقان حمید اعلان کرتاہے کہ انسان جلد باز واقع ہواہے۔ وہ ہرکام کا فوری نتیجہ چاہتاہے۔ بلاشبہ آخرت دائمی ہے لیکن دنیا کی زندگی کے مقابلے پر موخرہے۔ یعنی تاخیرسے آنے والی ہے اس کے مقابلے پر دنیا انسان کو فوری طورپر حاصل ہوجاتی ہے۔ لیکن دنیا کے نقد اور آخرت کے تاخیرسے ملنے کا احساس ایمان کی کمزوری اور ذہانت کی قلت کا حامل ہے۔ ایمان قوی ہوتاہے تو انسان کو آخرت سامنے کھڑی نظرآتی ہے اور دنیا آنکھوں سے اوجھل ہوجاتی ہے۔ آخرت ٹھوس بن جاتی ہے اور دنیا خیال کی طرح محسوس ہوتی ہے۔
قرآن اور حدیث کا علم بتاتاہے کہ انسان کا سب سے بڑا موقف اس کا نسیان یعنی بھولنے کی عادت ہے۔ غورکیاجائے تو لفظ انسان دراصل نسیان ہی سے مشتق ہے۔ انسان کو جب تک خدا یاد رہتاہے وہ گناہ کی غلطی بھی نہیں کرتا لیکن جیسے ہی وہ نسیان میںمبتلا ہوتاہے اپنے خالق‘ مالک اوررازق کو بھولتاہے۔ اس کے شعورکی نوعیت تبدیل ہوجاتی ہے۔ وہ عارضی کو دائمی پر ترجیح دینے لگتاہے۔ اس کے لیے دنیا آخرت سے زیادہ اہم ہوجاتی ہے۔
انسان کا ایک بڑا مسئلہ ماحول کا جبرہے۔ ماحول کا جبر اتنی ہولناک چیز ہے کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا ہے کہ بچہ اپنی فطرت یعنی اسلام پر پیدا ہوتاہے لیکن اس کے والدین اسے یہودی عیسائی اور مجوسی بنادیتے ہیں۔ ہمارے ماحول کا جبر یہ ہے کہ ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی پر مغرب اس کے تصورات اور اس کی ترجیحات کا غلبہ ہے اور مغرب میں سب کچھ دنیا ہے۔ بلاشبہ ہم مغرب کے زیراثر آخرت کو بھولے نہیں ہیں لیکن مغرب کے علمی تہذیبی سماجی اور معاشی غلبے نے ہمارے یہاں دنیا اور آخرت کے تعلق کو یکسر بدل دیاہے اور ہم ماحول کے جبرکو توڑنے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہیں۔ 

www.nasikblog.com 

PERMOUET: مغرب اور عالم اسلام کے تعلقات‘ بنیادی پہلو

PERMOUET: مغرب اور عالم اسلام کے تعلقات‘ بنیادی پہلو: "کہنے کو مغرب 21 ویں صدی میں کھڑا ہے لیکن اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے دیکھا جائے تو مغربی دنیا 21 ویں صدی میں نہیں 31 ویں صدی میں سانس لے ..."

مغرب اور عالم اسلام کے تعلقات‘ بنیادی پہلو

کہنے کو مغرب 21 ویں صدی میں کھڑا ہے لیکن اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے دیکھا جائے تو مغربی دنیا 21 ویں صدی میں نہیں 31 ویں صدی میں سانس لے رہی ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ مغرب میں ایک واقعہ ابھی ہورہا ہوتا ہے اور مغرب کے ذرائع ابلاغ کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اس میں القاعدہ یا مسلم بنیاد پرست ملوث ہیں۔ 1995ءمیں امریکا کی ریاست اوکلاہاما میں دہشت گردی کی بڑی واردات ہوئی۔ واردات ابھی جاری تھی کہ امریکا کے ٹیلی ویژن چینلز کو معلوم ہوگیا کہ واردات میں مسلم دہشت گردوں کا ہاتھ ہے۔ ایک باریش نوجوان کی نشاندہی بھی کردی گئی جس کا تعاقب کیا گیا۔ چند گھنٹوں بعد معلوم ہوا کہ واردات میں امریکا کا اپنا ایک عیسائی نوجوان ٹموتھی میک ویہہ ملوث ہے۔ یہی صورتحال ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں پیش آئی۔ دہشت گردی کی واردات جاری تھی کہ ناروے‘ امریکا اور یورپ کے ریڈیو اور ٹی وی چینلز چیخنے لگے کہ واردات میں القاعدہ کا ہاتھ ہے۔ بعض مبصرین نے اس سلسلے میں دلائل بھی پیش کرنے شروع کردیے۔ کسی نے کہا اس واردات کا سبب یہ ہے کہ ناروے کے ایک اخبار نے حال ہی میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کارٹون شائع کیے ہیں۔ کسی نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ناروے کے فوجی افغانستان میں لڑرہے ہیں۔ لیکن چند گھنٹوں بعد معلوم ہوا کہ واردات میں ناروے کا بنیاد پرست عیسائی نوجوان آندرے بہرویک ملوث ہے اور اس نے ڈیڑھ دو گھنٹے میں 90 سے زیادہ بے گناہ لوگوں کو مار ڈالا ہے۔ آندرے بہرویک نے حراست میں لیے جانے کے بعد نہ صرف یہ کہ اپنے جرم کا اعتراف کیا بلکہ اس پر فخر کا اظہار کیا اور کہا کہ اس نے یہ قدم مغربی دنیا کو اسلام اور مسلمانوں سے محفوظ بنانے کے لیے اٹھایا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس نے انٹرنیٹ پر 15 سو صفحات پر مشتمل دستاویز چھوڑی ہے جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت سے بھری ہوئی ہے۔ ان حقائق سے مغربی دنیا کی اجتماعی سوچ کے کئی اہم گوشے نمایاں ہوکر سامنے آتے ہیں۔
ان میں سے ایک گوشہ یہ ہے کہ مغربی دنیا نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جھوٹ اور قیاس آرائی کو پالیسی بنالیا ہے۔ اور مغربی دنیا کے ماہرین اپنے معاشروں میں اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے خوف کا کاروبارکررہے ہیں۔
مغربی ذرائع ابلاغ معروضیت یعنی Objectivity کے بڑے قائل ہیں اور اسے وہ اپنے پیشے میں ایمان کا درجہ دیتے ہیں۔ اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے مغربی ذرائع ابلاغ معروضیت کیا موضوعیت یعنی Subjectivity کی بھی اچھی مثالیں پیش نہیں کر پارہے۔
 مغربی ذرائع ابلاغ کی پیشہ ورانہ اخلاقیات کا تقاضا یہ ہے کہ اگر آپ کی خبرکسی وجہ سے غلط ثابت ہوجائے تو اس پر متعلقہ فرد‘ افراد یا ادارے سے معذرت کرلی جائے۔ لیکن ناروے کے سانحے کے حوالے سے مغربی دنیا کے ہزاروں ذرائع ابلاغ نے بے بنیاد قیاس آرائی کی۔ دنیا کے سب سے بڑے مذہب اور دنیا کی سب سے بڑی امت کو بدنام کیا لیکن ایک ریڈیو اسٹیشن کسی ایک ٹیلی ویژن چینل کو بھی اس کی توفیق نہیں ہوئی کہ وہ اپنی بے بنیاد قیاس آرائی پر معذرت کرتا۔ اس کا مطلب اس کے سوا کیا ہے کہ مغربی دنیا کے ذرائع ابلاغ نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جھوٹ کو اپنا ”حق“ بنا لیا ہے۔ غور سے دیکھا جائے تو مغرب کے اس طرز عمل میں نہ کہیں علم ہے۔ نہ کہیں تہذیب ہے۔ نہ کہیں انصاف ہے۔ نہ کہیں توازن ہے۔ نہ کہیں دلیل ہے۔
تجزیہ کیا جائے تو اہل مغرب مغربی دنیا اور مسلمانوں کے تعلق کے سب سے بنیادی پہلو کو مسلسل اور یکسر نظر انداز کرکے کلام کررہے ہیں۔ اس پہلو کا لب لباب یہ ہے کہ گزشتہ ایک ہزار سال کی تاریخ میں مغرب نے ”عمل“ کیا ہے اور مسلمانوں نے مغرب کے عمل پر صرف ”ردعمل“ ظاہر کیا ہے۔
اس سلسلے کی ابتداءصلیبی جنگوں سے ہوئی تھی دوسو سال تک جاری رہنے والی صلیبی جنگوں کی ابتداءمسلمانوں نے نہیں یورپ نے کی تھی۔ مسلمانوں نے ان جنگوں میں صرف اپنا دفاع کیا اور مغرب کے عمل کا جواب ردعمل سے دیا۔ بلاشبہ صلیبی جنگوں کا اختتام یورپی طاقتوں کی شکست سے ہوا اور مسلمانوں نے نہ صرف یہ کہ بیت المقدس کو آزاد کرا لیا بلکہ یورپ کی طرف پیش قدمی بھی کی۔ لیکن یہ پیش قدمی دفاعی جنگ ہی کا تسلسل تھا۔ عمل کے ردعمل ہی کا حاصل تھا۔
مغربی دنیا آج کہتی ہے کہ افغانستان کے خلاف جنگ نائن الیون کا ردعمل تھا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کسی مغل بادشاہ نے لندن پر حملہ کردیا تھا جو انگریز برصغیر میں آدھمکے اور دیکھتے ہی دیکھتے اس پر قابض ہوگئے۔ کیا الجزائر کے کسی حکمران نے پیرس میں دہشت گردی کرائی تھی کہ فرانسیسی الجزائر کو مقبوضہ علاقہ بنانے پر مجبور ہوگئے۔؟ یہی معاملہ یورپ کی ان دیگر اقوام کا تھا جنہوں نے کسی نہ کسی مسلم ملک کو غلام بنا کر مسلم دنیا میں اس نوآبادیاتی دور کی ابتدا کی جو کم وبیش دوسو سال جاری رہا۔ اس پورے عرصے میں بھی مسلم دنیا صرف مغرب کے عمل پر ردعمل ہی ظاہرکرتی رہی۔
نوآبادیاتی دور کے خاتمے سے آج تک ہماری دنیا مغرب کے غلبے کی دنیا ہے۔ اس دنیا میں مغرب کا سیاسی غلبہ ہے۔ معاشی غلبہ ہے‘ عسکری غلبہ ہے۔ تہذیبی غلبہ ہے اس غلبے نے فلسطین کا المیہ تخلیق کیا۔ اس غلبے نے کشمیر کے سانحے کو جنم دیا۔ اس غلبے نے خلیج کی پہلی جنگ تخلیق کی۔ اس غلبے نے بوسنیا ہرزیگووینا کا حادثہ پیدا کیا۔ اس غلبے نے سعودی عرب کی مقدس سرزمین پر امریکی فوجوں کی موجودگی کو ممکن بنایا۔ اس غلبے نے مسلم دنیا پر مغرب کے آلہ کار حکمرانوں کے قبضے کی راہ ہموار کی‘ اس ہولناک منظرنامے میں بھی مغرب ہر جگہ عمل کررہا ہے اور مسلمان ہر جگہ مغرب کی ظالمانہ جابرانہ غیرانسانی‘ غیراخلاقی اور تہذیب سے عاری عمل پر صرف ”ردعمل “ ظاہر کررہا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہزار سال کی تاریخ باالخصوص گزشتہ دوسو سال کی تاریخ میں مسلمان ردعمل ظاہرکرنے کے سوا کچھ کر ہی نہیں سکتے تھے اس لیے کہ ان کے پاس عمل یا Initiative کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ لیکن مغربی دنیا کے دانش ور‘ مغربی دنیا کے سیاسی رہنما اور مغربی دنیا کے ذرائع ابلاغ مغرب اور عالم اسلام کے تعلقات کو نہ اس تناظر میں دیکھتے ہیں نہ سمجھتے اور سمجھاتے ہیں۔ اس کی وجہ ظاہر ہے مغربی دنیا حقائق کو ان کے حقیقی تناظر میں دیکھے گی تو ظالم اور مظلوم کا فرق عیاں ہوجائے گا اور مغرب کا تصور ذات یا Self Image بدل کر رہ جائے گا۔
غور کیا جائے تو مغربی دنیا ایک جھوٹے تصورِ ذات سے چمٹی ہوئی ہے اور چمٹے رہنا چاہتی ہے۔ اس کا تازہ ترین اور دلچسپ ثبوت یہ ہے کہ سانحہ اوسلو کے ذمہ دار آندرے بہرویک کا نام جیسے ہی سامنے آیا ناروے کی حکومت اور ذرائع ابلاغ نے یہ ثابت کرنے کی کوششیں شروع کردیں کہ آندرے ”پاگل“ ہے۔ اس کا ذہنی توازن درست نہیں۔ ان کوششوں کا مطلب عیاں ہے اور وہ یہ کہ مغرب ثابت کرنا چاہتا ہے کہ آندرے محض ایک ”فرد“ ہے۔ ناروے یا مغرب کا نمائندہ نہیں۔ لیکن پاگل نہ آندرے کی طرح کھیتی باڑی کرتے ہیں اور نہ 15 سو صفحات کی دستاویزات تخلیق کرتے ہیں۔ آندرے بہرویک نے تو 100 سے بھی کم لوگ مارے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ مغربی دنیا جارج بش اور ٹونی بلیئر کے بارے میں کیا سمجھتی ہے؟ جارج بش اور ٹونی بلیئر نے کہا کہ صدام حسین کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں۔ انہوں نے یہ کہا اور عراق پر چڑھ دوڑے اور وہاں پانچ سال میں 6 لاکھ لوگ مار ڈالے۔ سوال یہ ہے کہ آندرے بہرویک کی طرح جارج بش اور ٹونی بلیئر بھی کیا پاگل تھے؟ اور انہیں مغرب کا نمائندہ نہیں سمجھنا چاہیے؟ یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر مغربی دنیا آندرے بہرویک کو ایک فرد قرار دے کر اجتماع سے الگ کرسکتی ہے تو وہ یہی اصول مسلم دنیا کے لیے کیوں استعمال نہیں کرتی؟