انسانی تاریخ میں عظمت کے دعوے بہت انسانوں نے کیے ہیں مگر حقیقی عظمت کم لوگوں کو میسر آئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عظمت کا دھوکا عام ہے مگر عظمت کا تجربہ نایاب ہے۔ عظمت کے دھوکے کے عام ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسان لمحہ ¿ موجود کا اسیر ہوکر دیکھنے اور سوچنے کا عادی ہے۔ ایسا کرتے ہوئے وہ حال کو ماضی اور مستقبل سے کاٹ لیتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ ماضی میں لوگ کسی مخصوص شعبہ ¿ حیات میں کیسے کیسے کارنامے انجام دے چکے ہیں۔ وہ اس حقیقت کو فراموش کردیتا ہے کہ مستقبل میں سفر کرنے کے لیے کتنی غیر معمولی اہلیت درکار ہے۔ سلیم احمد نے کہا ہے
کتنے لکھنے والے اس حسرت میں مٹی ہوگئے
صفحہ آبِ رواں پر نقش ہو تحریر کا
صفحہ آبِ رواں وقت کا دریا ہے اور وقت کے دریا کو فتح کرنا آسان نہیں۔ اقبال نے کہا ہے
اوّل و آخر فنا باطن و ظاہر فنا
نقشِ کہن ہو کہ نو منزل آخر فنا
فنا کا یہ تصور اتنا دل دہلا دینے والا ہے کہ اس کے سامنے عظمت کی بات ہی فضول محسوس ہوتی ہے۔ بلاشبہ فنا زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے، لیکن دیکھا جائے تو انسان کی عظمت کا انحصار اس بات پر ہے کہ انسان فنا ہونے سے پہلے کس طرح جیا اور جینے کے بعد کس طرح مرا۔ یہ بات اس لیے اہم ہے کہ تاریخ کے سفر میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ بہت سے لوگوں کو جینا آتا ہے مگر مرنا نہیں آتا، اور کچھ لوگ مرنے کا سلیقہ سیکھ لیتے ہیں لیکن انہیں جینے کا شعور نہیں ہوتا۔ انسان کی عظمت اس میں ہے کہ اسے جینا بھی آتا ہو اور مرنا بھی آتا ہو۔
اسلام کے دائرے میں انسان کی عظمت بے پناہ ہے۔ اسلام اسے اشرف المخلوقات کہتا ہے۔ اس کے سر پر خلیفتہ الارض کا تاج رکھتا ہے۔ اس کی جان کی حرمت کو خانہ کعبہ سے زیادہ اہم قرار دیتا ہے۔ لیکن اسلام میں انسان کی یہ عظمت مشروط ہے۔ اسلام میں انسان کی عظمت اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے قرب سے ہے۔ انسان اللہ تعالیٰ کا جتنا مطیع اور فرماں بردار ہے اور اس کے جتنا زیادہ قریب ہے اتنا ہی وہ حقیقی، زندہ اور عظیم ہے۔ اور انسان اللہ تعالیٰ کا جتنا نافرمان اور اس سے جتنا زیادہ دور ہے اتنا ہی جعلی، مُردہ اور حقیر ہے۔ اس تعریف کی رو سے دیکھا جائے تو حقیقی عظمت صرف انبیا و مرسلین اور ان کے وارثوں کو حاصل ہے۔ لیکن انبیا و مرسلین کی تعداد ایک لاکھ 24 ہزار ہے اور ان میں اولوالعزم پیغمبر صرف پانچ ہیں۔ یعنی حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیم ؑ، حضرت موسیٰ ؑ، حضرت عیسیٰ ؑ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم۔ البتہ سردار الانبیا اور خاتم النبیین صرف ایک ہیں، یعنی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انبیا کی تاریخ کے کمال کا کمال اور انبیا کی تاریخ کے جمال کا جمال ہیں، اور اس سے زیادہ عظمت کا تصور ممکن ہی نہیں۔ اس عظمت کا عالم یہ ہے کہ جس نے اس عظمت کو دیکھا وہ خود بھی عظیم ہوگیا۔ مثلاً صحابہ کرامؓ۔ یہاں تک کہ صحابہ کرامؓ کو دیکھنے اور ان سے فیض اٹھانے والے تابعین بھی ہماری تاریخ میں غیر معمولی عظمت کے حامل ہیں۔ لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کسی خاص زمانے تک محدود نہیں۔ قیامت تک جو شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی کتاب اور آپ کی سیرت ِطیبہ سے قریب ہوگا وہ عظیم بن جائے گا۔
عظمت کا بہت گہرا تعلق خیال اور اس کے سرچشمے سے بھی ہے۔ چنانچہ انسانی تاریخ میں وحی کی اہمیت مرکزی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وحی سے بڑے خیال اور اس کے سرچشمے سے بڑے سرچشمے کا تصور محال ہے۔ اس روئے زمین پر اگر انسان کا قیام ایک کروڑ سال ہوگا تو وحی اس پورے زمانے کا احاطہ کیے کھڑی ہے۔ وحی کے موضوعات دائمی اور اس کے خیال کی سطح کی بلندی بے مثال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں الہامی کتب اور انبیا و مرسلین کے اقوال کی تشریح کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ اس چیز کا اثر فلسفے کی روایت پر بھی پڑا ہے۔ سقراط اور افلاطون کے زمانے میں فلسفہ دانش یا وحی کے پیدا کردہ علوم کی محبت تھا، اور اس کے موضوعات عظیم الشان تھے۔ مثلاً یہ کہ وجود کیا ہے؟ کائنات کیا ہے؟ صداقت کسے کہتے ہیں؟ حسن کے معنی کیا ہیں؟ انسان کہاں سے آیا ہے؟ اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ کلاسیکل فلسفے کی اس بلند خیالی نے اسے تقریباً ڈھائی ہزار سال تک زندہ رکھا۔ جدید فلسفے نے خدا اور مذہب کے خلاف بغاوت پر اپنی اساس رکھی اور اس کے موضوعات بدل کر رہ گئے۔ مابعد الطبیعات کی جگہ طبیعات نے لے لی۔ وجود کا مطلب وجودِ باری تعالیٰ کے بجائے انسانی وجود ہوگیا۔ موضوعات کی پستی نے فلسفے سے اس کی بلند خیالی چھین لی، اور فلسفے کی دنیا میں خیالات کا فیشن لباس کے فیشن کی طرح تیزی کے ساتھ بدلنے لگا، چنانچہ چونکہ کبھی دو ہزار سال کا بوجھ اٹھا سکتی تھی اس کے لیے چند دہائیوں کا بوجھ اٹھانا بھی دشوار ہوگیا۔ یہ فرق خیال کی بلندی اور اس کے سرچشمے کی تبدیلی کا فرق ہے۔ کلاسیکل فلسفے کے موضوعات اپنی نہاد میں مابعد الطبیعاتی تھے، اور جدید فلسفے کے موضوعات طبیعاتی ہیں۔ کلاسیکل فلسفے کا سرچشمہ الہام تھا، اور جدید فلسفے کا سرچشمہ عقلِ انسانی ہے۔ چنانچہ ان کی عظمت کا فرق سمندر اور چائے کے کپ کی عظمت کا فرق ہے۔ کلاسیکل فلسفے کے طوفان سمندر کے طوفان ہیں، اور جدید فلسفے کے طوفان چائے کے کپ میں اٹھنے والے طوفان ہیں۔ کلاسیکل فلسفہ چونکہ زندگی کو اس کی گہرائی میں دیکھتا تھا اس لیے کلاسیکل فلسفے کے ہر بڑے فلسفی کے یہاں ہمیں نظریہ سازی یا Theorization کا عمل ملتا ہے، اور ہر بڑے فلسفی نے نظام سازی یا System Building کی اہلیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ کلاسیکل فلسفے میں اس عمل کی سب سے بڑی علامت افلاطون ہے۔ جدید فلسفے میں یہ کام ہیگل نے کیا ہے۔ کارل مارکس، ہیگل سے متاثر تھا اور اس نے بھی نظریہ سازی اور نظام سازی کی اہلیت کا مظاہرہ کیا۔ لیکن مارکس کی نظریہ سازی اور نظام بندی اپنی نہاد میں یک جہت یا Single Dimensional ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ مارکس اپنی اصل میں فلسفی نہیں بلکہ ایک ماہر معاشیات یا عالمی سطح کا سیاسی کارکن یا Political Activist تھا۔
انسان اور خیال کی عظمت کی ایک بڑی کسوٹی وقت ہے۔ وقت ہر شے کا سب سے بڑا نقاد ہے اور اس کا کھوٹا کھرا ثابت کردیتا ہے۔ سقراط اور افلاطون کا زمانہ 300 قبل مسیح کا زمانہ ہے، اور ان کے خیالات کی بنیاد پر دنیا میں نہ کبھی کوئی انقلاب برپا ہوا نہ ریاست قائم ہوئی، لیکن اس کے باوجود سقراط اور افلاطون کو آج بھی اسی طرح پڑھا جاسکتا ہے جس طرح آج سے سوا دو ہزار سال پہلے پڑھا جاسکتا تھا۔ اس کے برعکس کارل مارکس کے نظریات کی بنیاد پر انقلاب بھی برپا ہوا اور ریاست بھی قائم ہوئی، یہاں تک کہ نصف دنیا عملاً اس کے خیالات کو بسر کرنے والی دنیا بن گئی، لیکن کارل مارکس صرف سو سال میں ”پرانا“ بھی ہوگیا اور دنیا نے اس کے نظریے کو مسترد بھی کردیا۔ چنانچہ اب مارکس کے نظریات کو تاریخ کی ”یادگار“ کے طور پر پڑھا جاسکتا ہے۔ اس کے سوا اب مارکس کے نظریات کی کوئی اہمیت نہیں۔
عظمت کے سلسلے میں وقت کی کسوٹی کی ایک کیا کئی اچھی مثالیں اردو ادب میں موجود ہیں۔ مثلاً میر، غالب اور اقبال کو ہم عظیم کہتے ہیں اور ان کی عظمت کا ایک پہلو یہ ہے کہ میر کم و بیش ڈھائی سو سال سے ادبی ذوق کی آبیاری کررہے ہیں اور انہیں آج تک کوئی پرانا کہنے کی جرا ¿ت نہیں کرسکا ہے۔ غالب ڈیڑھ سو سال سے مسلسل پڑھے اور سمجھے جارہے ہیں اور غالب کی تنقید ابھی تک غالب کی شاعری کے امکانات کو ختم یا Exhaust نہیں کرسکی ہے۔ اقبال ایک صدی سے ہر نسل کے پسندیدہ شاعر ہیں اور ان کی شاعری کی تاثیر کو ابھی تک پوری طرح دریافت نہیں کیا جاسکا ہے۔ وقت عظمت کے پیمانوں کو کس طرح بدل ڈالتا ہے اس کی سب سے بڑی مثال ذوق، مومن اور غالب کی درجہ بندی میں آنے والا فرق ہے۔ غالب کے زمانے میں شاعرانہ عظمت کے اعتبار سے ان تینوں شاعروں کی ترتیب یہ تھی: ذوق، مومن اور غالب۔ مگر آج ان تینوں کی درجہ بندی یہ ہے: غالب، مومن، ذوق۔ اردو ادب میں مصنوعی عظمت کی ایک مثال جوش ملیح آبادی ہیں۔ آج سے پچاس سال پہلے جوش شاعرِ انقلاب تھے، شاعرِ شباب تھے، شاعراعظم تھے۔ برصغیر میں ان کے بغیر کسی مشاعرے اور کسی ادبی رسالے کا تصور نہیں کیا جاسکتا تھا، مگر آج ذوق اور جگر کیا ناصر کاظمی تک جوش سے زیادہ اہم ہیں۔ جوش کی شاعری نہ بعد میں آنے والے کسی قابل ذکر شاعر پر اثرانداز ہوسکی، نہ ان کی شاعری آج کے اجتماعی حافظے کا حصہ ہے۔ اس کے برعکس جوش کی شہرت کے زمانے میں اُن سے کم اہم سمجھے جانے والے فراق اور جگر مراد آبادی کے درجنوں اشعار برصغیر کے لاکھوں لوگوں کو یاد ہوں گے۔ مولانا مودودیؒ برصغیر کے علمی افق پر طلوع ہوئے تو علماءکی عظیم اکثریت نے ان کے سلسلے میں دو رویّے اختیار کیے۔ ایک یہ کہ علماءکی اکثریت نے انہیں ”گمراہ“ کہہ کر مسترد کردیا۔ کچھ علماءنے مولانا کو مسترد تو نہیں کیا، لیکن ان کے سلسلے میں متعصبانہ رویہ اختیار کرلیا۔ مثلاً یہ کہ مولانا اسلام کے بارے میں کچھ باتیں تو ٹھیک طرح جانتے ہیں لیکن انہیں کچھ چیزوں کا صحیح علم نہیں ہے۔ مثلاً: بھلا انہیں کیا معلوم کہ فہم کیا چیز ہے؟ علماءکے اس رویّے کو دیکھ کر کسی کو بھی یہ خیال ہوسکتا تھا کہ مولانا مودودیؒ کی علمی اور فکری عمر زیادہ نہیں ہے۔ مولانا دس بیس سال میں انتقال کرجائیں گے۔ لیکن جو کچھ ہوا ہے وہ ہمارے سامنے ہے۔ مولانا 70 سال سے اب تک زندہ ہیں اور مسلم دنیا کی فکری تشکیلِ نو میں ان کا حصہ کسی بھی دوسری شخصیت سے زیادہ ہے۔ البتہ جو لوگ مولانا کو مسترد کرتے تھے ان کو وقت نے خود مسترد کردیا، اور جو لوگ مولانا کے فہم پر سوال اٹھاتے تھے وقت نے خود ان کے فہم کے آگے سوالیہ نشان لگادیے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عظمت ایجاد کرنے سے ایجاد نہیں ہوتی، وقت خود بتا دیتا ہے کہ عظمت کس کا حصہ ہے اور کس کا حصہ نہیں ہے۔ لیکن کسی کہنے والے نے کہا ہے کہ وقت ایک مہنگا استاد ہے۔ بلاشبہ ایسا ہی ہے۔ کبھی کبھی وقت انسان سے اس کی پوری زندگی مانگ لیتا ہے اور انسان خالی ہاتھ کھڑا رہ جاتا ہے۔
کتنے لکھنے والے اس حسرت میں مٹی ہوگئے
صفحہ آبِ رواں پر نقش ہو تحریر کا
صفحہ آبِ رواں وقت کا دریا ہے اور وقت کے دریا کو فتح کرنا آسان نہیں۔ اقبال نے کہا ہے
اوّل و آخر فنا باطن و ظاہر فنا
نقشِ کہن ہو کہ نو منزل آخر فنا
فنا کا یہ تصور اتنا دل دہلا دینے والا ہے کہ اس کے سامنے عظمت کی بات ہی فضول محسوس ہوتی ہے۔ بلاشبہ فنا زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے، لیکن دیکھا جائے تو انسان کی عظمت کا انحصار اس بات پر ہے کہ انسان فنا ہونے سے پہلے کس طرح جیا اور جینے کے بعد کس طرح مرا۔ یہ بات اس لیے اہم ہے کہ تاریخ کے سفر میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ بہت سے لوگوں کو جینا آتا ہے مگر مرنا نہیں آتا، اور کچھ لوگ مرنے کا سلیقہ سیکھ لیتے ہیں لیکن انہیں جینے کا شعور نہیں ہوتا۔ انسان کی عظمت اس میں ہے کہ اسے جینا بھی آتا ہو اور مرنا بھی آتا ہو۔
اسلام کے دائرے میں انسان کی عظمت بے پناہ ہے۔ اسلام اسے اشرف المخلوقات کہتا ہے۔ اس کے سر پر خلیفتہ الارض کا تاج رکھتا ہے۔ اس کی جان کی حرمت کو خانہ کعبہ سے زیادہ اہم قرار دیتا ہے۔ لیکن اسلام میں انسان کی یہ عظمت مشروط ہے۔ اسلام میں انسان کی عظمت اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے قرب سے ہے۔ انسان اللہ تعالیٰ کا جتنا مطیع اور فرماں بردار ہے اور اس کے جتنا زیادہ قریب ہے اتنا ہی وہ حقیقی، زندہ اور عظیم ہے۔ اور انسان اللہ تعالیٰ کا جتنا نافرمان اور اس سے جتنا زیادہ دور ہے اتنا ہی جعلی، مُردہ اور حقیر ہے۔ اس تعریف کی رو سے دیکھا جائے تو حقیقی عظمت صرف انبیا و مرسلین اور ان کے وارثوں کو حاصل ہے۔ لیکن انبیا و مرسلین کی تعداد ایک لاکھ 24 ہزار ہے اور ان میں اولوالعزم پیغمبر صرف پانچ ہیں۔ یعنی حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیم ؑ، حضرت موسیٰ ؑ، حضرت عیسیٰ ؑ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم۔ البتہ سردار الانبیا اور خاتم النبیین صرف ایک ہیں، یعنی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انبیا کی تاریخ کے کمال کا کمال اور انبیا کی تاریخ کے جمال کا جمال ہیں، اور اس سے زیادہ عظمت کا تصور ممکن ہی نہیں۔ اس عظمت کا عالم یہ ہے کہ جس نے اس عظمت کو دیکھا وہ خود بھی عظیم ہوگیا۔ مثلاً صحابہ کرامؓ۔ یہاں تک کہ صحابہ کرامؓ کو دیکھنے اور ان سے فیض اٹھانے والے تابعین بھی ہماری تاریخ میں غیر معمولی عظمت کے حامل ہیں۔ لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کسی خاص زمانے تک محدود نہیں۔ قیامت تک جو شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی کتاب اور آپ کی سیرت ِطیبہ سے قریب ہوگا وہ عظیم بن جائے گا۔
عظمت کا بہت گہرا تعلق خیال اور اس کے سرچشمے سے بھی ہے۔ چنانچہ انسانی تاریخ میں وحی کی اہمیت مرکزی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وحی سے بڑے خیال اور اس کے سرچشمے سے بڑے سرچشمے کا تصور محال ہے۔ اس روئے زمین پر اگر انسان کا قیام ایک کروڑ سال ہوگا تو وحی اس پورے زمانے کا احاطہ کیے کھڑی ہے۔ وحی کے موضوعات دائمی اور اس کے خیال کی سطح کی بلندی بے مثال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں الہامی کتب اور انبیا و مرسلین کے اقوال کی تشریح کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ اس چیز کا اثر فلسفے کی روایت پر بھی پڑا ہے۔ سقراط اور افلاطون کے زمانے میں فلسفہ دانش یا وحی کے پیدا کردہ علوم کی محبت تھا، اور اس کے موضوعات عظیم الشان تھے۔ مثلاً یہ کہ وجود کیا ہے؟ کائنات کیا ہے؟ صداقت کسے کہتے ہیں؟ حسن کے معنی کیا ہیں؟ انسان کہاں سے آیا ہے؟ اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ کلاسیکل فلسفے کی اس بلند خیالی نے اسے تقریباً ڈھائی ہزار سال تک زندہ رکھا۔ جدید فلسفے نے خدا اور مذہب کے خلاف بغاوت پر اپنی اساس رکھی اور اس کے موضوعات بدل کر رہ گئے۔ مابعد الطبیعات کی جگہ طبیعات نے لے لی۔ وجود کا مطلب وجودِ باری تعالیٰ کے بجائے انسانی وجود ہوگیا۔ موضوعات کی پستی نے فلسفے سے اس کی بلند خیالی چھین لی، اور فلسفے کی دنیا میں خیالات کا فیشن لباس کے فیشن کی طرح تیزی کے ساتھ بدلنے لگا، چنانچہ چونکہ کبھی دو ہزار سال کا بوجھ اٹھا سکتی تھی اس کے لیے چند دہائیوں کا بوجھ اٹھانا بھی دشوار ہوگیا۔ یہ فرق خیال کی بلندی اور اس کے سرچشمے کی تبدیلی کا فرق ہے۔ کلاسیکل فلسفے کے موضوعات اپنی نہاد میں مابعد الطبیعاتی تھے، اور جدید فلسفے کے موضوعات طبیعاتی ہیں۔ کلاسیکل فلسفے کا سرچشمہ الہام تھا، اور جدید فلسفے کا سرچشمہ عقلِ انسانی ہے۔ چنانچہ ان کی عظمت کا فرق سمندر اور چائے کے کپ کی عظمت کا فرق ہے۔ کلاسیکل فلسفے کے طوفان سمندر کے طوفان ہیں، اور جدید فلسفے کے طوفان چائے کے کپ میں اٹھنے والے طوفان ہیں۔ کلاسیکل فلسفہ چونکہ زندگی کو اس کی گہرائی میں دیکھتا تھا اس لیے کلاسیکل فلسفے کے ہر بڑے فلسفی کے یہاں ہمیں نظریہ سازی یا Theorization کا عمل ملتا ہے، اور ہر بڑے فلسفی نے نظام سازی یا System Building کی اہلیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ کلاسیکل فلسفے میں اس عمل کی سب سے بڑی علامت افلاطون ہے۔ جدید فلسفے میں یہ کام ہیگل نے کیا ہے۔ کارل مارکس، ہیگل سے متاثر تھا اور اس نے بھی نظریہ سازی اور نظام سازی کی اہلیت کا مظاہرہ کیا۔ لیکن مارکس کی نظریہ سازی اور نظام بندی اپنی نہاد میں یک جہت یا Single Dimensional ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ مارکس اپنی اصل میں فلسفی نہیں بلکہ ایک ماہر معاشیات یا عالمی سطح کا سیاسی کارکن یا Political Activist تھا۔
انسان اور خیال کی عظمت کی ایک بڑی کسوٹی وقت ہے۔ وقت ہر شے کا سب سے بڑا نقاد ہے اور اس کا کھوٹا کھرا ثابت کردیتا ہے۔ سقراط اور افلاطون کا زمانہ 300 قبل مسیح کا زمانہ ہے، اور ان کے خیالات کی بنیاد پر دنیا میں نہ کبھی کوئی انقلاب برپا ہوا نہ ریاست قائم ہوئی، لیکن اس کے باوجود سقراط اور افلاطون کو آج بھی اسی طرح پڑھا جاسکتا ہے جس طرح آج سے سوا دو ہزار سال پہلے پڑھا جاسکتا تھا۔ اس کے برعکس کارل مارکس کے نظریات کی بنیاد پر انقلاب بھی برپا ہوا اور ریاست بھی قائم ہوئی، یہاں تک کہ نصف دنیا عملاً اس کے خیالات کو بسر کرنے والی دنیا بن گئی، لیکن کارل مارکس صرف سو سال میں ”پرانا“ بھی ہوگیا اور دنیا نے اس کے نظریے کو مسترد بھی کردیا۔ چنانچہ اب مارکس کے نظریات کو تاریخ کی ”یادگار“ کے طور پر پڑھا جاسکتا ہے۔ اس کے سوا اب مارکس کے نظریات کی کوئی اہمیت نہیں۔
عظمت کے سلسلے میں وقت کی کسوٹی کی ایک کیا کئی اچھی مثالیں اردو ادب میں موجود ہیں۔ مثلاً میر، غالب اور اقبال کو ہم عظیم کہتے ہیں اور ان کی عظمت کا ایک پہلو یہ ہے کہ میر کم و بیش ڈھائی سو سال سے ادبی ذوق کی آبیاری کررہے ہیں اور انہیں آج تک کوئی پرانا کہنے کی جرا ¿ت نہیں کرسکا ہے۔ غالب ڈیڑھ سو سال سے مسلسل پڑھے اور سمجھے جارہے ہیں اور غالب کی تنقید ابھی تک غالب کی شاعری کے امکانات کو ختم یا Exhaust نہیں کرسکی ہے۔ اقبال ایک صدی سے ہر نسل کے پسندیدہ شاعر ہیں اور ان کی شاعری کی تاثیر کو ابھی تک پوری طرح دریافت نہیں کیا جاسکا ہے۔ وقت عظمت کے پیمانوں کو کس طرح بدل ڈالتا ہے اس کی سب سے بڑی مثال ذوق، مومن اور غالب کی درجہ بندی میں آنے والا فرق ہے۔ غالب کے زمانے میں شاعرانہ عظمت کے اعتبار سے ان تینوں شاعروں کی ترتیب یہ تھی: ذوق، مومن اور غالب۔ مگر آج ان تینوں کی درجہ بندی یہ ہے: غالب، مومن، ذوق۔ اردو ادب میں مصنوعی عظمت کی ایک مثال جوش ملیح آبادی ہیں۔ آج سے پچاس سال پہلے جوش شاعرِ انقلاب تھے، شاعرِ شباب تھے، شاعراعظم تھے۔ برصغیر میں ان کے بغیر کسی مشاعرے اور کسی ادبی رسالے کا تصور نہیں کیا جاسکتا تھا، مگر آج ذوق اور جگر کیا ناصر کاظمی تک جوش سے زیادہ اہم ہیں۔ جوش کی شاعری نہ بعد میں آنے والے کسی قابل ذکر شاعر پر اثرانداز ہوسکی، نہ ان کی شاعری آج کے اجتماعی حافظے کا حصہ ہے۔ اس کے برعکس جوش کی شہرت کے زمانے میں اُن سے کم اہم سمجھے جانے والے فراق اور جگر مراد آبادی کے درجنوں اشعار برصغیر کے لاکھوں لوگوں کو یاد ہوں گے۔ مولانا مودودیؒ برصغیر کے علمی افق پر طلوع ہوئے تو علماءکی عظیم اکثریت نے ان کے سلسلے میں دو رویّے اختیار کیے۔ ایک یہ کہ علماءکی اکثریت نے انہیں ”گمراہ“ کہہ کر مسترد کردیا۔ کچھ علماءنے مولانا کو مسترد تو نہیں کیا، لیکن ان کے سلسلے میں متعصبانہ رویہ اختیار کرلیا۔ مثلاً یہ کہ مولانا اسلام کے بارے میں کچھ باتیں تو ٹھیک طرح جانتے ہیں لیکن انہیں کچھ چیزوں کا صحیح علم نہیں ہے۔ مثلاً: بھلا انہیں کیا معلوم کہ فہم کیا چیز ہے؟ علماءکے اس رویّے کو دیکھ کر کسی کو بھی یہ خیال ہوسکتا تھا کہ مولانا مودودیؒ کی علمی اور فکری عمر زیادہ نہیں ہے۔ مولانا دس بیس سال میں انتقال کرجائیں گے۔ لیکن جو کچھ ہوا ہے وہ ہمارے سامنے ہے۔ مولانا 70 سال سے اب تک زندہ ہیں اور مسلم دنیا کی فکری تشکیلِ نو میں ان کا حصہ کسی بھی دوسری شخصیت سے زیادہ ہے۔ البتہ جو لوگ مولانا کو مسترد کرتے تھے ان کو وقت نے خود مسترد کردیا، اور جو لوگ مولانا کے فہم پر سوال اٹھاتے تھے وقت نے خود ان کے فہم کے آگے سوالیہ نشان لگادیے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عظمت ایجاد کرنے سے ایجاد نہیں ہوتی، وقت خود بتا دیتا ہے کہ عظمت کس کا حصہ ہے اور کس کا حصہ نہیں ہے۔ لیکن کسی کہنے والے نے کہا ہے کہ وقت ایک مہنگا استاد ہے۔ بلاشبہ ایسا ہی ہے۔ کبھی کبھی وقت انسان سے اس کی پوری زندگی مانگ لیتا ہے اور انسان خالی ہاتھ کھڑا رہ جاتا ہے۔