Popular Posts

Monday, August 15, 2011

مغرب اور عالم اسلام کے تعلقات‘ بنیادی پہلو

کہنے کو مغرب 21 ویں صدی میں کھڑا ہے لیکن اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے دیکھا جائے تو مغربی دنیا 21 ویں صدی میں نہیں 31 ویں صدی میں سانس لے رہی ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ مغرب میں ایک واقعہ ابھی ہورہا ہوتا ہے اور مغرب کے ذرائع ابلاغ کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اس میں القاعدہ یا مسلم بنیاد پرست ملوث ہیں۔ 1995ءمیں امریکا کی ریاست اوکلاہاما میں دہشت گردی کی بڑی واردات ہوئی۔ واردات ابھی جاری تھی کہ امریکا کے ٹیلی ویژن چینلز کو معلوم ہوگیا کہ واردات میں مسلم دہشت گردوں کا ہاتھ ہے۔ ایک باریش نوجوان کی نشاندہی بھی کردی گئی جس کا تعاقب کیا گیا۔ چند گھنٹوں بعد معلوم ہوا کہ واردات میں امریکا کا اپنا ایک عیسائی نوجوان ٹموتھی میک ویہہ ملوث ہے۔ یہی صورتحال ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں پیش آئی۔ دہشت گردی کی واردات جاری تھی کہ ناروے‘ امریکا اور یورپ کے ریڈیو اور ٹی وی چینلز چیخنے لگے کہ واردات میں القاعدہ کا ہاتھ ہے۔ بعض مبصرین نے اس سلسلے میں دلائل بھی پیش کرنے شروع کردیے۔ کسی نے کہا اس واردات کا سبب یہ ہے کہ ناروے کے ایک اخبار نے حال ہی میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کارٹون شائع کیے ہیں۔ کسی نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ناروے کے فوجی افغانستان میں لڑرہے ہیں۔ لیکن چند گھنٹوں بعد معلوم ہوا کہ واردات میں ناروے کا بنیاد پرست عیسائی نوجوان آندرے بہرویک ملوث ہے اور اس نے ڈیڑھ دو گھنٹے میں 90 سے زیادہ بے گناہ لوگوں کو مار ڈالا ہے۔ آندرے بہرویک نے حراست میں لیے جانے کے بعد نہ صرف یہ کہ اپنے جرم کا اعتراف کیا بلکہ اس پر فخر کا اظہار کیا اور کہا کہ اس نے یہ قدم مغربی دنیا کو اسلام اور مسلمانوں سے محفوظ بنانے کے لیے اٹھایا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس نے انٹرنیٹ پر 15 سو صفحات پر مشتمل دستاویز چھوڑی ہے جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت سے بھری ہوئی ہے۔ ان حقائق سے مغربی دنیا کی اجتماعی سوچ کے کئی اہم گوشے نمایاں ہوکر سامنے آتے ہیں۔
ان میں سے ایک گوشہ یہ ہے کہ مغربی دنیا نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جھوٹ اور قیاس آرائی کو پالیسی بنالیا ہے۔ اور مغربی دنیا کے ماہرین اپنے معاشروں میں اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے خوف کا کاروبارکررہے ہیں۔
مغربی ذرائع ابلاغ معروضیت یعنی Objectivity کے بڑے قائل ہیں اور اسے وہ اپنے پیشے میں ایمان کا درجہ دیتے ہیں۔ اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے مغربی ذرائع ابلاغ معروضیت کیا موضوعیت یعنی Subjectivity کی بھی اچھی مثالیں پیش نہیں کر پارہے۔
 مغربی ذرائع ابلاغ کی پیشہ ورانہ اخلاقیات کا تقاضا یہ ہے کہ اگر آپ کی خبرکسی وجہ سے غلط ثابت ہوجائے تو اس پر متعلقہ فرد‘ افراد یا ادارے سے معذرت کرلی جائے۔ لیکن ناروے کے سانحے کے حوالے سے مغربی دنیا کے ہزاروں ذرائع ابلاغ نے بے بنیاد قیاس آرائی کی۔ دنیا کے سب سے بڑے مذہب اور دنیا کی سب سے بڑی امت کو بدنام کیا لیکن ایک ریڈیو اسٹیشن کسی ایک ٹیلی ویژن چینل کو بھی اس کی توفیق نہیں ہوئی کہ وہ اپنی بے بنیاد قیاس آرائی پر معذرت کرتا۔ اس کا مطلب اس کے سوا کیا ہے کہ مغربی دنیا کے ذرائع ابلاغ نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جھوٹ کو اپنا ”حق“ بنا لیا ہے۔ غور سے دیکھا جائے تو مغرب کے اس طرز عمل میں نہ کہیں علم ہے۔ نہ کہیں تہذیب ہے۔ نہ کہیں انصاف ہے۔ نہ کہیں توازن ہے۔ نہ کہیں دلیل ہے۔
تجزیہ کیا جائے تو اہل مغرب مغربی دنیا اور مسلمانوں کے تعلق کے سب سے بنیادی پہلو کو مسلسل اور یکسر نظر انداز کرکے کلام کررہے ہیں۔ اس پہلو کا لب لباب یہ ہے کہ گزشتہ ایک ہزار سال کی تاریخ میں مغرب نے ”عمل“ کیا ہے اور مسلمانوں نے مغرب کے عمل پر صرف ”ردعمل“ ظاہر کیا ہے۔
اس سلسلے کی ابتداءصلیبی جنگوں سے ہوئی تھی دوسو سال تک جاری رہنے والی صلیبی جنگوں کی ابتداءمسلمانوں نے نہیں یورپ نے کی تھی۔ مسلمانوں نے ان جنگوں میں صرف اپنا دفاع کیا اور مغرب کے عمل کا جواب ردعمل سے دیا۔ بلاشبہ صلیبی جنگوں کا اختتام یورپی طاقتوں کی شکست سے ہوا اور مسلمانوں نے نہ صرف یہ کہ بیت المقدس کو آزاد کرا لیا بلکہ یورپ کی طرف پیش قدمی بھی کی۔ لیکن یہ پیش قدمی دفاعی جنگ ہی کا تسلسل تھا۔ عمل کے ردعمل ہی کا حاصل تھا۔
مغربی دنیا آج کہتی ہے کہ افغانستان کے خلاف جنگ نائن الیون کا ردعمل تھا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کسی مغل بادشاہ نے لندن پر حملہ کردیا تھا جو انگریز برصغیر میں آدھمکے اور دیکھتے ہی دیکھتے اس پر قابض ہوگئے۔ کیا الجزائر کے کسی حکمران نے پیرس میں دہشت گردی کرائی تھی کہ فرانسیسی الجزائر کو مقبوضہ علاقہ بنانے پر مجبور ہوگئے۔؟ یہی معاملہ یورپ کی ان دیگر اقوام کا تھا جنہوں نے کسی نہ کسی مسلم ملک کو غلام بنا کر مسلم دنیا میں اس نوآبادیاتی دور کی ابتدا کی جو کم وبیش دوسو سال جاری رہا۔ اس پورے عرصے میں بھی مسلم دنیا صرف مغرب کے عمل پر ردعمل ہی ظاہرکرتی رہی۔
نوآبادیاتی دور کے خاتمے سے آج تک ہماری دنیا مغرب کے غلبے کی دنیا ہے۔ اس دنیا میں مغرب کا سیاسی غلبہ ہے۔ معاشی غلبہ ہے‘ عسکری غلبہ ہے۔ تہذیبی غلبہ ہے اس غلبے نے فلسطین کا المیہ تخلیق کیا۔ اس غلبے نے کشمیر کے سانحے کو جنم دیا۔ اس غلبے نے خلیج کی پہلی جنگ تخلیق کی۔ اس غلبے نے بوسنیا ہرزیگووینا کا حادثہ پیدا کیا۔ اس غلبے نے سعودی عرب کی مقدس سرزمین پر امریکی فوجوں کی موجودگی کو ممکن بنایا۔ اس غلبے نے مسلم دنیا پر مغرب کے آلہ کار حکمرانوں کے قبضے کی راہ ہموار کی‘ اس ہولناک منظرنامے میں بھی مغرب ہر جگہ عمل کررہا ہے اور مسلمان ہر جگہ مغرب کی ظالمانہ جابرانہ غیرانسانی‘ غیراخلاقی اور تہذیب سے عاری عمل پر صرف ”ردعمل “ ظاہر کررہا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہزار سال کی تاریخ باالخصوص گزشتہ دوسو سال کی تاریخ میں مسلمان ردعمل ظاہرکرنے کے سوا کچھ کر ہی نہیں سکتے تھے اس لیے کہ ان کے پاس عمل یا Initiative کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ لیکن مغربی دنیا کے دانش ور‘ مغربی دنیا کے سیاسی رہنما اور مغربی دنیا کے ذرائع ابلاغ مغرب اور عالم اسلام کے تعلقات کو نہ اس تناظر میں دیکھتے ہیں نہ سمجھتے اور سمجھاتے ہیں۔ اس کی وجہ ظاہر ہے مغربی دنیا حقائق کو ان کے حقیقی تناظر میں دیکھے گی تو ظالم اور مظلوم کا فرق عیاں ہوجائے گا اور مغرب کا تصور ذات یا Self Image بدل کر رہ جائے گا۔
غور کیا جائے تو مغربی دنیا ایک جھوٹے تصورِ ذات سے چمٹی ہوئی ہے اور چمٹے رہنا چاہتی ہے۔ اس کا تازہ ترین اور دلچسپ ثبوت یہ ہے کہ سانحہ اوسلو کے ذمہ دار آندرے بہرویک کا نام جیسے ہی سامنے آیا ناروے کی حکومت اور ذرائع ابلاغ نے یہ ثابت کرنے کی کوششیں شروع کردیں کہ آندرے ”پاگل“ ہے۔ اس کا ذہنی توازن درست نہیں۔ ان کوششوں کا مطلب عیاں ہے اور وہ یہ کہ مغرب ثابت کرنا چاہتا ہے کہ آندرے محض ایک ”فرد“ ہے۔ ناروے یا مغرب کا نمائندہ نہیں۔ لیکن پاگل نہ آندرے کی طرح کھیتی باڑی کرتے ہیں اور نہ 15 سو صفحات کی دستاویزات تخلیق کرتے ہیں۔ آندرے بہرویک نے تو 100 سے بھی کم لوگ مارے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ مغربی دنیا جارج بش اور ٹونی بلیئر کے بارے میں کیا سمجھتی ہے؟ جارج بش اور ٹونی بلیئر نے کہا کہ صدام حسین کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں۔ انہوں نے یہ کہا اور عراق پر چڑھ دوڑے اور وہاں پانچ سال میں 6 لاکھ لوگ مار ڈالے۔ سوال یہ ہے کہ آندرے بہرویک کی طرح جارج بش اور ٹونی بلیئر بھی کیا پاگل تھے؟ اور انہیں مغرب کا نمائندہ نہیں سمجھنا چاہیے؟ یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر مغربی دنیا آندرے بہرویک کو ایک فرد قرار دے کر اجتماع سے الگ کرسکتی ہے تو وہ یہی اصول مسلم دنیا کے لیے کیوں استعمال نہیں کرتی؟

No comments:

Post a Comment